اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہیومین رائٹس واچ نے آل سعود سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے 160 سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کردے۔ یہ افراد گذشتہ فروری سے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل ہیں۔ ہیومین رائٹس واچ کے مشرق وسطی کے امور کے ماہر کریسٹوف ولکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حالیہ گرفتاریاں اصلاحات کے عمل کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ 160 شیعہ سرگرم افراد حالیہ مہینوں میں عوامی مظاہروں کے دوران گرفتار کرلئے گئے ہیں جن میں القطیف صوبے کے رہنے والے 15 کم سن بچوں، 10 قانوندانوں اور تین مصنفین کے بارے میں ابھی تک کسی قسم کی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ العوامیہ شہر کے انسانی حقوق کے سرگرم رکن فاصل المنسف کو مظاہرین کی صدا ریکارڈ کرنے اور تصویریں لینے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے؛ حسین الیوسف کو گذشتہ بدھ کے روز گذشتہ ہفتوں کے دوران چوتھی مرتبہ گرفتار کرلیا گیا ہے؛ نذیر الماجد الشرقیہ کے علاقے کے ایک اسکول ٹیچر ہیں جنہیں عوامی مظاہروں میں شرکت کرنے کی پاداش میں اسکول سے برخاست گیا گیا اور گذشتہ 17 اپریل سے پابند سلاسل ہیں۔ شیخ علی آل زاید اور علی الدبیسی العوامیہ شہر کی اہم سماجی شخصیات ہیں جو آل سعود کے اذیتکدوں میں بند ہیں۔ سعودی عرب میں حکومت نے ہر قسم کے مظاہروں پر پابندی لگائی ہے اور سعودی سرکاری مفتیوں نے حکومت سے کسی قسم کا مطالبہ کرنے اور کسی بھی سلسلے میں مظاہروں اور ریلیوں کے انعقاد کو حرام قرار دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
- آل سعودکےاذیتکدوں میں 146 شیعہ معترضین بدستور پابندسلاسل / آل سعود کے مظالم پر HRW کی رپورٹ
- سعودی نوجوانوں كی جانب سے بحرينی ملت كے حق میں مظاہرہ
- بحرینی اقتدار اعلی پر آل سعود کا قبضہ ہو چکا ہے؛ پارلیمان میں آل سعود کا جھنڈا
- پاکستانی وزیر داخلہ سعودی عرب کے دورے پر روانہ/ اپڈیٹ: رحمان ملک کی سعودی شاہ سے ملاقات
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز
بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت
پلیز